Assalam Alaikum to every one Sir, I have this question
Assalam Alaikum to every one Sir, I have this question that I have a problem regarding my higher qualification, my qualification is FA third vision, while my graduation is second division and I have filed a case on the basis of higher qualification. As a result of which case I was rejected on the basis that Sir, it is the new ruling of the Supreme Court of Pakistan in 2023 that higher qualification will not be considered if it is considered. There is abuse of those who are lower class people, then I bring the new judgment of 202 of the Supreme Court of Pakistan that no applicant can be disqualified on the basis of higher qualification.جبکہ اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ ڈبل بینچ پر بھی میرا کیس ریجیکٹ کر دیا جاتا ہے کہ جو تعلیمی قبلیت محکمہ مانگ رہا ہے اپ چاہے ایم اے کر لیں یا پی ایچ ڈی کر لیں اس کی ڈگری بھی حاصل کر لیں تو اپ منیمم جو تعلیمی معیار مانگا جا رہا ہے اپ اس کے اوپر کنسیڈر نہیں ہوتے جبکہ قانون یہ ہے کہ جو بندہ امینڈمنٹ سے پہلے یا لا سے پہلے کا بھرتی ہوا ہوتا ہے اس پر نیا قانون لاگو نہیں ہوتا لیکن پھر بھی 2023 کا قانون کیونکہ میں 2018 کا مستقل ملازم ہوں 2018 میں ہی میری اپوائنٹمنٹ ہوتی ہے تو 2018 کے قانون کے مطابق اور 2023 کے قانون کے مطابق 2023 کا جو قانون ہے وہ میرے اوپر نہیں لگتا کیونکہ میں پرانا ملازم ہوں روح یہ کہتے ہیں اس کے بعد ایس این جی اے ڈی کے رولز اور ریکوزیشن کو دیکھتے ہوئے ایس این جی اے ڈی سے ایڈوائس مانگی جاتی ہے ہمارے محکمے کی طرف سے کہ جی ہمیں کون سا تعلیمی معیار لگانا چاہیے اس کے بعد ایس این جی اے ڈی یہ کہتا ہے کہ جی اپ جو ہے اپ خود مختار ادارہ ہیں اور اپ سیمی گورنمنٹ ہیں اپ کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے لیکن یہ ہے کہ تعلیمی قبلیت جو ہے جونیئر کلر کی پوسٹ کے لیے وہ ایف اے سیکنڈ ڈویژن ہے ٹھیک ہے اس کے بعد ایس این جی اے ڈی ابھی اسی منتھ ستمبر میں اپنے ملازمین کے لیے جو بی ایس ون سے بی ایس ایٹ کی کیٹگری کے لوگ ہیں ان کے لیے وہ تعلیمی معیار رکھتا ہے کہ جی میٹرک سیکنڈ ڈویژن ہونی چاہیے ٹھیک ہے اب میرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جو قانون بنانے والا ادارہ ہے وہ اس بنیاد پر اس کیس کی دجیاں نہیں اڑا اڑا رہا کہ وہ اپنے ملازمین کے لیے تو میٹرک سیکنڈ وی این رکھ رہا ہے اور دوسرے ملازمین کو کہہ رہا ہے کہ اپ ایف اے سیکنڈ رکھ لیں ٹھیک ہے اب بورڈ اف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فیصل اباد جو ہے کیونکہ تمام تعلیمی بورڈ سیمی گورنمنٹ کے ادارے میں اتے ہیں اور نو کے نو بورڈ خود مختار ادارہ ہے ٹھیک ہے اب سوال دوسرا سوال میرا یہ ہے کہ اگر تو بورڈ اف گورنرز کی میٹنگ میں یہ ڈیسائیڈ ہوا ہے بورڈ اف گورنر کی میٹنگ میں ڈیسائیڈ ہوا ہے فیصلہ ہوا تھا کہ میٹرک سیکنڈ ویژن ہونی چاہیے کلاس فور ایمپلوئس کی بھرتی کے لیے ٹھیک ہے تو چھ تعلیمی بورڈوں نے چھ تعلیمی بورڈوں نے ایسا کیا کہ انہوں نے میٹرک سیکینڈریشن کو اڈاپٹ کیا ہوا ہے اور تین بورڈوں نے ایف اے سیکنڈ ریویژن کو اڈاپٹ کیا ہوا ہے اور جن کے قانون کو فیصل اباد تعلیمی بورڈ نے ان کے فیصلے کو جن کے فیصلے کو انہوں نے اڈاپٹ کیا ہوا ہے وہ خود جنہوں نے ان کو قانون دیا وہ خود جو ہے وہ میٹرک بیس پہ جا رہے ہیں اب میری میں یہ رائے لینا چاہ رہا ہوں کہ اگر میں سپریم کورٹ اف پاکستان میں اپیل کرتا ہوں کہ جناب اعلی گزارش یہ ہے کہ تمام تعلیمی بورڈز اور ایس این جی اے ڈی باشمول ایس این جی اے ڈی یہ کہہ رہا ہے کہ پرانے ملازم پر نیا قانون لاگو نہیں ہوتا جو پہلے سے بھرتی ہوئے ہوتے ہیں ان پر نہیں امینڈمنٹ نہیں لاگو ہوتی تو مجھ کو دو مجھ پہ 2023 کا قانون کیسے ہائر کر کر مجھے ریجیکٹ کر دیا گیا ٹھیک ہے اس کے بعد 2024 کے قانون کو کیوں نہیں مانا جا رہا اور اس کے بعد جن کے قانون کو یہ پکڑ کے بیٹھے ہیں وہ جو قانونی قبلیت کا ذکر کر رہے ہیں وہ خود تو میٹرک بیس پہ جا رہے ہیں ان کو وہ کہہ رہے ہیں کہ جی اپ ایف اے بی ایس پہ چلے جائیں یا یہ یہ نہ تو بورڈ اف گورننس کے ارڈرز کو مان رہے ہیں اور نہ ایس این جی اے ڈی کے رولز کے اوپر چل رہے ہیں تو یہ اخر چل کے اس بیس پہ رہے ہیں یہ مجھے تھوڑی سی اپ سب سے ریکویسٹ ہے کہ مجھے رہنمائی دے دیں تھینک یو ویری مچ
